ہوم
قومی خبریں
نواز شریف وزیر اعظم رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ،قوم سے معافی مانگتے ہوئے فوری مستعفی ہوں :عمران خان
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف وزیر اعظم رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں ،قوم سے معافی مانگتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہوں ، پاناما لیکس کےمعاملے پر چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے ،آئندہ لائحہ عمل کا اعلان 24اپریل کو کروں گا،اگر اب بھی پاکستانیوں نے جدوجہد شروع نہ کی تو ملک تباہی کی طرف چلا جائے گا، نواز شریف پر 4 بڑے الزامات ہیں،ن لیگ کے وزراءنے اپنے قائد سے کرپشن کے بارے میں پوچھنے کی بجائے شوکت خانم پر الزامات لگانا شروع کر دیے ۔بنی گالہ کے باہر قوم سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہا میں ہمیشہ بات کرتا تھا کہ امپائر کی اگلی اٹھ جانی ہے اور اب اٹھ گئی ہے کیو نکہ امپائر اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ نے سو موٹو لے کر پاکستانیوں کو ایک اور موقع دے دیا ہے، اگر اب بھی جدو جہد نہ شروع کی گئی تو ملک تباہی کی طرف جا سکتا ہے ۔اگر اب ہم کرپشن کے خلاف مل کر کھڑے ہو جائیں تو پاکستان کو قائد اور اقبال کا پاکستان بنا سکتے ہیں ۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کے بعد دنیا بھر میں احتجاج شروع ہوا اور لوگ حکمرانوں کے احتساب کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ،ہمیں بھی پاکستان کے پیسے اور جمہوریت کی حفاظت خود کرنی ہو گی کیونکہ اگر ہم خود اس ظلم کے خلاف نہیں کھڑے ہونگے تو یہ لوگ ہمیں دباتے جائیں گے ۔عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے نام پر تو کوئی کمپنی نہیں ہے لیکن اب تو ان کے نام پر بھی دو کمپنیاں نکل آئیں ہیں نواز شریف پرچار بڑے الزامات ہیں جن میں ٹیکس چوری ،منی لانڈرنگ ،کرپشن اور الیکشن کمیشن کو اپنے اثاثے ڈکلیئر نہ کرنا شامل ہیں۔ ان میں سے ایک بھی الزام اگر برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون پر لگ جاتا تو انہیں جیل ہو جاتی ۔ڈیوڈ کیمرہ نے صرف 40لاکھ ٹیکس پورا نہیں دیا اس پر ان سے استعفیٰ مانگا جا رہا ہے جبکہ نواز شریف نے 2011میں اپنے بیٹے کی آف شور کمپنی سے 20کروڑ روپے لیے لیکن اسکا کوئی نام نہیں لے رہا ۔اسحاق ڈار نے خود بتایا ہوا کہ یہ پیسہ کس طرح منی لانڈرنگ کر کے بیرون ملک لے جایا گیا ہے ۔نواز شریف نے کہا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف ثبوت ہیں تو وہ کمیشن میں لے آئے۔میں کہنا چاہتا ہوں کہ میاں صاحب ثبوت تو سامنے آ گئے ہیں اب تو مزید تحقیقات ہونی ہیں کہ آپ نے کتنا پیسہ چھپایا ہوا ہے ۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے پاس اپنے اوپر لگے الزمات کا جواب صرف یہ ہے کہ سب کرپشن کرتے ہیں ،انہیں عمران خان کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں ملا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے خیراتی ادارے شوکت خانم کے فنڈز میں سے 3کروڑ کی رقم سرمایہ داری میں ضائع کردیے گئے ہیں لیکن میں سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ تین کروڑ واپس آ چکے ہیں ۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ن لیگ میں ایک مولاجٹ ٹائپ وزیر ہے اس کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ اس سے ٹائم ضائع ہوگا وہ ویسے تو بہت بولتا ہے لیکن شریف خاندان کے سامنے اسکی بولتی بند ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اسحاق ڈار کی گاڑی کا دروازہ بھی وہ وزیر کھولتا ہے اس کے بس میں نہیں کہ وہ ان کے سامنے لیٹ جائے تاکہ زمین پر لگنے سے اسحاق ڈار کے پاﺅں گندے نہ ہوں۔ مسلم لیگ ن کے وزیرو ں نے شریف خاندان سے کرپشن کے بارے میں پوچھنے کی بجائے شوکت خانم پہ الزام لگائے ،ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے قیامت کے دن حساب اللہ تعالیٰ کو دینا ہے یہ شریف خاندان کو ؟عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سب کے بعد وزیر اعظم کے پاس اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچتا اس لیے انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے ۔ہم وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے معاملے پر اعلان کردہ کمیشن کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا جائے جس میں وائٹ کالر کرائم کے ایکسپرٹس ہوں اور بیرون ملک کی منی ٹریل کی تحقیقات کرنے والی آڈٹ فرم سے تحقیقات کرائی جائیں ۔جب تک ہمارا مطالبہ پورا نہیں ہوگا ہم آپ کی جان نہیں چھوڑنے والے جبکہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان تحریک انصاف کے 24اپریل کو ہونے والے جلسے میں کیا جائے گا ۔
ایک تبصرہ شائع کریں
ایک تبصرہ شائع کریں