مکتہ المکرمہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی وزارت لیبر و سماجی بہبود نے مکہ صوبے میں ہوٹلوں ، ریستورانوں اور تفریح گاہوں میں 80 فیصد نوکریوں پر سعودی شہریوں کا حق قرار دیتے ہوئے غیر ملکیوں کی بھرتیوں پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ اس فیصلے پر رواں سال کے اختتام تک مکمل عملدر آمد کیا جائے گا۔سعودی گزٹ کے مطابق سعودی وزارت لیبر و سماجی بہبود کے ڈائریکٹر عبداللہ بن محمد الاولیان کا کہنا ہے کہ وزارت لیبر و سماجی بہبود ، کمیشن برائے سیاحت و قومی ورثہ اور ہیومن ریسورسز ڈویلپمنٹ فنڈ کے تعاون سے اس فیصلے پر عملدرآمد کرائے گی ۔ ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرتے ہوئے الاولیان کا کہنا تھا کہ سعودی ملازمین کو نظم و ضبط کا پابند، وقت کا پابند اور محنتی ہونا چاہیے ۔ انہوں نے سعودی نوجوانوں سے کہا کہ وہ خود کو طاقت نامی ویب سائٹ پر رجسٹر کرائیں تاکہ ان کے اہلیت کے مطابق ملازمت میسر آنے پر ان سے رابطہ کیا جاسکے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کی جانب سے موبائل فون کے کاروبارکی ہر سطح پر غیر ملکیوں کے کام کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی جس کے بعد سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی شہری موبائل فون کی ’مینوفیکچرنگ سے لے کر فروخت ہونے تک‘ کسی بھی سطح پر کاروبار نہیں کرسکیں گے۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.