
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے نجی ہاﺅسنگ سکیم میں درختوں کی کٹائی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں گڈ گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، ادارے دیوالیہ ہو چکے ہیں، ہر کام گھوم پھر کر ہمارے پاس آ جاتا ہے، کیا سارے کام عدالتوں نے کرنے ہیں؟۔ سپریم کورٹ میں مری میں ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کے باعث درختوں کی کٹائی کے خلاف اہل علاقہ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔نجی ٹی وی کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ ملکی ادارے دیوالیہ ہوچکے اور اب درختوں کی کٹائی کا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گڈ گورننس نام کی کوئی چیز نہیں جس کی وجہ سے ہر کام گھوم پھر کر ہمارے پاس آجاتا ہے۔عدالت نے مری میں درختوں کی کٹائی کے خلاف اہل علاقہ کی درخواست پر مختصر سماعت کے بعد آئندہ سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردی۔
ایک تبصرہ شائع کریں
ایک تبصرہ شائع کریں