کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) کراچی ہمدرد یونیورسٹی کے پرنسپل ڈاکٹر فرقان نے
کہا ہے کہ طالب علم عبدالباسط نے دلبرداشتہ ہو کر خودسوزی کی اور اسے
جلائے جانے کہ افواہیں من گھڑت ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر
فرقان کا کہنا تھا کہ انہیں بھی واقعے پر شدید افسوس ہے تاہم طالب علم
عبدالباسط جب امتحانی مرکز پہنچا تو اس وقت تک امتحانات کا وقت گزر چکا تھا
اور کسی ایک سٹوڈنٹ کا الگ سے امتحان نہیں لیا جا سکتا ۔ اپنے بیان میں ان
کا مزید کہنا تھا کہ عبدالباسط امتحان کا وقت ختم ہونے کے آدھا گھنٹہ بعد
پہنچے اور دلبرداشتہ ہو کر خود کو آگ لگائی جس میں انتظامیہ کا کوئی قصور
نہیں ہے۔
کراچی کی ہمدرد یونیورسٹی میں مبینہ طور پر طالب علم عبدالباسط نے امتحانی مرکز میں بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے پر خود کو آگ لگا لی تھی اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا جس کے بعد طالب علم کی والدہ نے الزام عائد کیا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے اپنے اوپر تیل چھڑکنے پر اکسایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ انکا بیٹا پڑھا لکھا تھا اور وہ خودکشی کا سوچ بھی نہیں سکتا تاہم اس کی موت کی زمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ ہے ۔ عبدالباسط کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نےانکے بیٹے پر تیل جھڑک کر آگ لگائی اور واقعے کو خودسوزی کا رنگ دیدیا۔
کراچی کی ہمدرد یونیورسٹی میں مبینہ طور پر طالب علم عبدالباسط نے امتحانی مرکز میں بیٹھنے کی اجازت نہ ملنے پر خود کو آگ لگا لی تھی اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا جس کے بعد طالب علم کی والدہ نے الزام عائد کیا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے اپنے اوپر تیل چھڑکنے پر اکسایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ انکا بیٹا پڑھا لکھا تھا اور وہ خودکشی کا سوچ بھی نہیں سکتا تاہم اس کی موت کی زمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ ہے ۔ عبدالباسط کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نےانکے بیٹے پر تیل جھڑک کر آگ لگائی اور واقعے کو خودسوزی کا رنگ دیدیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں
ایک تبصرہ شائع کریں