
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی رہنما عظمی کاردار نے اس
معاملے پر عمران خان کو خط لکھا جس کے بعد انہوں نے واقعے کی تحقیقات اور
ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے نعیم الحق کی سربراہی میں 4رکنی کمیٹی قائم
کر دی ہے ۔
عظمی کاردار نے خط میں اعتراض اٹھایا ہے کہ جلسے کے دوران خواتین کیساتھ بدتمیزی کرنے والے پی ٹی آئی کے کارکن تھے تاہم انتظامیہ سٹیج پر موجود تھی مگر اس کے باوجود کارکنوں کو کنٹرول نہ کر سکی ۔ انہوں نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ جلسے میں خواتین سے بدتمیزی شرمناک عمل تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عظمیٰ کاردار کے خط کے بعد چیئرمین عمران خان نے نعیم الحق کی سربراہی میں چار کنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں نفیسہ خٹک ، یونس علی رضا اور طلعت نقوی کوبھی شامل کیا گیا ہے ۔ کمیٹی جلسے کی ویڈیو ، تصاویر اور دیگر شواہد کا تفصیلی جائزہ لے کر سا ت روز میں اپنی رپورٹ مکمل کرے گی ۔
عظمی کاردار نے خط میں اعتراض اٹھایا ہے کہ جلسے کے دوران خواتین کیساتھ بدتمیزی کرنے والے پی ٹی آئی کے کارکن تھے تاہم انتظامیہ سٹیج پر موجود تھی مگر اس کے باوجود کارکنوں کو کنٹرول نہ کر سکی ۔ انہوں نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ جلسے میں خواتین سے بدتمیزی شرمناک عمل تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عظمیٰ کاردار کے خط کے بعد چیئرمین عمران خان نے نعیم الحق کی سربراہی میں چار کنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں نفیسہ خٹک ، یونس علی رضا اور طلعت نقوی کوبھی شامل کیا گیا ہے ۔ کمیٹی جلسے کی ویڈیو ، تصاویر اور دیگر شواہد کا تفصیلی جائزہ لے کر سا ت روز میں اپنی رپورٹ مکمل کرے گی ۔
ایک تبصرہ شائع کریں
ایک تبصرہ شائع کریں