
لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی نے حقیقی بھائی کی جانب سے وارثتی جائیداد سے محروم کی جانے والی بہنوں کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قراردیا ہے کہ دیہاتوں میں جہاں تقریبا80 فیصد عوام آباد ہیں ، وہاں خواتین کے وراثتی حقوق کی حفاظت اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں کی جاتی، جو کہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔جسٹس علی اکبر قریشی نے 11 صفحات پر مشتمل اپنے تفصیلی فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ برصغیر میں بھائیوں کی جانب سے مختلف حربوں سے اپنی بہنوں انکے جائز وراثتی حق سے محروم کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے،جائیداد سے محرومی پر خواتین بہت کم تعداد میں اپنے پیاروں کے خلا ف عدالتوں کا رخ کرتی ہیں،سماجی تنظیموں کو اس معاملے پر دیہات کا رخ بھی کرنا چاہیے، ملک کی 80فیصد آبادی کا تعلق دیہات سے ہے ،دوسرے لفظوں میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی رفاہی تنظیمیں اور سماجی کارکن ملک کی 80فیصد آبادی کے علاقوں میں اس بابت ناکام رہی ہیں، حمید اں بی بی سمیت دو بہنوں نے سگے بھائی محمد شریف کی جان سے وراثتی جائیداد سے محرومی پر ہائی کورٹ سے رجوع کررکھا تھا،عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے کا حکم دے دیا،عدالت نے قراردیا کہ سگی بہنوں کو ان کے وراثتی حق سے محروم کرنے والے نے جعلی کاغذات سے جائیداداپنے نام کروائی،محمدشریف عدالتی استفسار پر کاغذات کے مصدقہ ہونے کے بارے میں کوئی بھی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔
ایک تبصرہ شائع کریں
ایک تبصرہ شائع کریں